اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے اسرائیلی فوجی امور کے صحافی امیر بوخبوط سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل شام میں ترکیہ کی مستقل فوجی موجودگی اور فوجی اڈوں کے قیام کو قبول نہیں کرے گا۔
اس عہدیدار نے شام پر حالیہ اسرائیلی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی کا پیغام یہ ہے کہ ’’شامی حکومت ذمہ دار ہے‘‘۔
اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے اندازوں کے مطابق ترکیہ شام کے صدر احمد الشرع کی کمزور پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں اپنے لیے فوجی اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ مستقبل میں ترکیہ کی فوجی موجودگی شام میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی آزادی محدود کر سکتی ہے اور اسرائیل کی سرحدوں کے قریب ایک نیا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اسرائیلی عہدیدار کے مطابق حالیہ کارروائی وزیر دفاع اسرائیل کاتس، فوج کے سربراہ ایال زامیر اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بیندر کی سفارش پر کی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حملے سے قبل اہداف کے تعین اور کارروائی کے طریقہ کار کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق مقصد خطے میں سکیورٹی کشیدگی کو مزید بڑھائے بغیر ایک واضح پیغام دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حملہ طے شدہ منصوبے کے مطابق فوج کے سربراہ کی نگرانی میں کیا گیا۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ احمد الشرع کی حکومت شام میں ڈویژنوں اور بریگیڈز پر مشتمل نئی فوج تشکیل دینے اور اپنی فضائیہ کی ازسرنو تعمیر کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ فضائی دفاعی نظام خریدنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس عہدیدار نے کہا، ’’ہم شام کی فوجی طاقت میں اضافے کو روکنا چاہتے ہیں‘‘ اور مزید کہا کہ اسرائیل شام میں فضائی دفاعی نظام کی تنصیب کی مخالفت کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل اسرائیلی فضائیہ نے شمال مغربی شام کے صوبہ ادلب میں واقع ابو الظهور فوجی ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔ یہ کارروائی ترک فوجی وفد کی جانب سے مذکورہ ہوائی اڈے کے دورے سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے ایک روز بعد کی گئی تھی۔
آپ کا تبصرہ